پاکستان میں مستقل سیاسی بحران کا حل

پاکستان میں مستقل سیاسی بحران کا حل طاقت کے ارتکاذ کوختم کرنا ضروری ہے

ڈاکٹر طارق خان

پاکستان اپنے قیام سے لے کر اب تک سیاسی بحران کا شکار رہا ہے۔ بحران عام طور پر حکومت کے پہلے دن سے شروع ہوتا ہے۔ حکومت کے چلتے چلتے اس میں شدت آتی جاتی ہے۔ حکومت عام طور پر اپنی مدت پوری کرنے سے پہلے تبدیل ہوتی ہے۔
میڈیا عام طور پر بحرانوں کے لیے سیاسی اشرافیہ اور سیاسی جماعتوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ تجزیہ کار اعلیٰ قیادت کے رویے یا سیاسی جماعتوں کے کردار میں بحران کی وجوہات تلاش کرتے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کا طرز عمل اور سیاسی جماعتوں کا کردار ضروری ہے لیکن اس سے زیادہ اہم وجہ اختیارات کا وفاقی سطح پر ارتکاز ہے۔
وفاقی حکومت نے گزشتہ برسوں میں اختیارات جمع کیے ہیں۔ فوجی اور جمہوری حکومتوں نے صوبائی اور مقامی حکومتوں کی قیمت پر اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اٹھارویں ترمیم نے صورت حال کوبٰٰھتر کرنے کی کوشش کی ہے پر مؤثر طریقے سے نہیں۔
مرکزی حکومت صوبوں اور اضلاع میں حکومتیں قائم کرنے کے لیے آسانی سے جوڑ توڑ کر سکتی ہے۔ حکومت کے تینوں درجوں میں، اقتدارمیں عام طور پر اس وقت تک شراکت نہیں دی جاتی جب تک کہ مخلوط حکومت مجبوری نہ ہو۔ اکثریتی پارٹی پالیسی سازی اور نفاذ چھوٹی جماعتوں اور سیاسی گروپوں کے ساتھ باآسانی  بانٹ سکتی ہے۔ اکثریتی جماعت عام طور پر اہم شعبوں کو اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے اور صرف غیراھم شعبوں کو اتحادی شراکت داروں کے حوالے کرتی ہے۔ پاکستان میں قومی حکومت کو کبھی آزمایا ہی نہیں گیا۔ حکومت یا اپوزیشن کے پاس یا تو سب کچھ ہوتا ھے یا کوئی نہیں۔
افقی اور عمودی سطحوں پر اختیارات کی تقسیم کا فقدان نظام میں تناؤ اور تصادم کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
سیاسی جماعتوں کو اپوزیشن، چھوٹی جماعتوں اور پیشہ ور گروپوں (پارلیمنٹ کے اندر یا باہر) کو طاقت کے ڈھانچے میں شامل کرنے کے لیے اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ استحکام لانے کے لیے نظام میں افقی (شعبوں/وزارتوں کے درمیان) اور عمودی سطحوں (صوبائی اور مقامی) پر اختیارات کی منصفانہ تقسیم لازمی ہے۔
نظام میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی مناسب تقسیم اور شمولیت سے نظام کو مستحکم کرنے میں سیا سی قوتوں کی دلچسپی پیدا ہو گی۔ بصورت دیگر اپوزیشن ہمیشہ مرکز میں حکومت کو گرانے کی کوشش کرے گی۔ مرکز سے نچلے درجے اور ہر درجے کے مختلف شعبوں میں طاقت کی تقسیم پاکستان میں مستقل بحرانوں کا پائیدار حل ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here